ابنا: ترک ذرائع ابلاغ کے مطابق نیوز چینلوں کی بندش اور ہزاروں ملازمین کی برطرفی کا حکم ہفتے کے روز ایمرجنسی کے قانون کے تحت کیے جانے والے دو الگ الگ فیصلوں کے تحت جاری کیا گیا ہے۔ ترکی میں ایمرجنسی کے دوران کابینہ کے فیصلے پارلیمنٹ کے منظور کردہ فیصلوں کے برابر اہمیت رکھتے ہیں۔
ترکی میں ناکام فوجی بغاوت کے کچھ دن بعد تین ماہ کے لیے ایمرجنسی نافذ کردی گئی تھی، جس میں پچھلے دنوں بارہ ہفتے کی توسیع کر دی گئی۔ ترک ذرائع کا کہنا ہے کہ جن پندرہ نیوز چینلوں کو بند کیا گیا ہے ان میں سے زیادہ تر کا تعلق جنوب مشرقی ترکی کے کرد آبادی والے علاقوں سے ہے۔
حکومت ترکی نے ایک اور اقدام کے ساتھ ملک کی یونیورسٹیوں کے چانسلروں کی تعیناتی کا اختیار بھی براہ راست صدر رجب طیب اردوغان کو دے دیا ہے۔ اس سے پہلے یونیورسٹی چانسلروں کا انتخاب اساتذہ کی رائے سے کیا جاتا تھا۔
ترک حکومت، امریکہ میں مقیم مخالف مذہبی رہنما فتح اللہ گولن اور ان کی تنطیم کو ملک میں ناکام فوجی بغاوت کا ذمہ دار قرار دیتی ہے، جس کی انہوں نے سختی کے ساتھ تردید کی ہے۔حکومت ترکی نے ناکام فوجی بغاوت کے بعد سے ملک بھر میں فتح اللہ گولن کی تنظیم کے خلاف کریک ڈاؤن کا سلسلہ تیز کر دیا ہے اور سرکاری اداروں سے خدمت تحریک کے حامیوں کو چن چن کر نکالا جارہا ہے۔
ترکی میں پندرہ جولائی کی ناکام فوجی بغاوت کے بعد سے اب تک پینتس ہزار افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے جبکہ ایک لاکھ سے زائد سرکاری ملازمین کو برطرف کر دیا گیا ہے جن میں سول انٹیلی جنس، پولیس ، عدلیہ، اور فوجی اہلکاروں کے علاوہ اساتذہ اور صحافی بھی شامل ہیں۔
۔۔۔۔۔
/169